ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا میں موجود ہیں 3لاکھ بنگلہ دیشی!: ریاست کے اعلیٰ پولیس آفیسر کا انکشاف 

کرناٹکا میں موجود ہیں 3لاکھ بنگلہ دیشی!: ریاست کے اعلیٰ پولیس آفیسر کا انکشاف 

Fri, 31 Jan 2020 00:11:28    S.O. News Service

بنگلورو30/جنوری (ایس او نیوز) بنگلورو سٹی پولیس کمشنربھاسکر راؤنے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ریاست کرناٹکا میں 3لاکھ بنگلہ دیشی باشندے موجود ہیں۔

بھاسکر راؤ نے مزید یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیشیوں کے خلاف حال ہی میں جو مہم چلائی گئی ہے اس کے نتیجے میں اب تک 3ہزار بنگلہ دیشی باشندے یہاں سے نکل گئے ہیں۔شہریت ترمیمی قانون کی حمایت اور مخالفت میں جاری سرگرمیوں کے دوران پہلی مرتبہ کسی اعلیٰ پولیس آفیسر نے ریاست میں موجودبنگلہ دیشیوں کی تعداد کو اس طرح متعینہ انداز میں بیان کیا ہے۔

تعمیراتی مزدوروں کے تحفظ، صحت اور فلاح وبہبود کے عنوان سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ بنگلورو اورلیبر ڈپارٹمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مسٹر راؤ کہا کہ حال ہی میں جن بنگلہ دیشی باشندوں سے یہاں سے ملک بدر کردیا گیا ہے ان کی زبانی یہ جانکاری ملی ہے کہ ریاست میں 3لاکھ بنگلہ دیشی باشندے موجود ہیں۔ اس تعلق سے کوئی خصوصی جائزہ یا سروے نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بنگلہ دیشی باشندے شہر بنگلورو میں موجود ہیں وہ انسانی اسمگلنگ کے ذریعے یہاں مزدوری کی تلاش میں آتے ہیں۔”بنگلورو میں کام کی بہتات ہے اور یہاں پر اچھی تنخواہ بھی ملتی ہے۔ان کی بڑی تعداد تعمیراتی مزدور کے طورپر کام کرتی ہے۔ بنگلہ دیشی مزدور کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ جہاں  عام مزدور یومیہ 500اور600روپے مزدوری طلب کرتے ہیں، وہاں پر بنگلہ دیشی مزدور 100اور150روپے یومیہ پر کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اور کم تنخواہ ملنے کی شکایت بھی نہیں کرتے۔اس رجحان کی وجہ سے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والوں کی ہمت افزائی ہورہی ہے اور زیادہ سے زیادہ بنگلہ دیشی باشندے یہاں کا رخ کررہے ہیں۔“


Share: